
کراچی، 28 اکتوبر، 2026 – جے ایس بینک لمیٹڈ (PSX: JSBL) نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ بینک نے قبل از ٹیکس منافع 8.932 ارب روپے رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 5.665 ارب روپے کے مقابلے میں 58 فیصد زیادہ ہے۔ بعد از ٹیکس منافع 2.569 ارب روپے سے بڑھ کر 4.300 ارب روپے ہوگیا، جس میں 67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدنی (EPS) بھی 1.25 روپے سے بڑھ کر 2.10 روپے ہوگئی۔
جے ایس بینک کے اثاثوں میں اضافہ جاری رہا اور ان کی مجموعی مالیت دسمبر 2025 کے اختتام پر 655.636 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد اضافے کے ساتھ 733.719 ارب روپے ہوگئی۔ بینک کے مجموعی ڈپازٹس میں بھی 10 فیصد اضافہ ہوا اور یہ دسمبر 2025 کے 543.502 ارب روپے سے بڑھ کر 598.123 ارب روپے ہوگئے۔ اس اضافے میں کم لاگت والے ڈپازٹس پر توجہ نے اہم کردار ادا کیا۔ غیر منافع بخش ڈپازٹس کا تناسب دسمبر 2025 کے 40.87 فیصد سے بڑھ کر 43.35 فیصد ہوگیا، جس سے مارکیٹ کے بدلتے حالات میں بینک کی بنیادی آمدنی کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
بینک کی آپریشنل کارکردگی میں متنوع ذرائع آمدن نے بھی کردار ادا کیا۔ فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 4.34 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3.828 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب، اخراجات پر قابو رکھنے کی حکمت عملی کے تحت نان مارک اپ اخراجات میں صرف 3.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 23.152 ارب روپے رہے۔
ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر، بینک نے 4 ارب روپے مالیت کے اپنے چھٹے ٹئیر 2 ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (TFC) کے اجرا کو کامیابی سے مکمل کیا۔ اس اضافے کے بعد بینک کا کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو (CAR) 13.30 فیصد ہوگیا ہے۔
نو ماہ کے دوران بینک نے کریڈٹ لاس الاؤنسز میں 1.733 ارب روپے کی خالص واپسی (نیٹ ریورسل) ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 3.182 ارب روپے کا خالص چارج ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت رسک مینجمنٹ اور قرضوں کی وصولی میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے جے ایس بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، باصر شمسی نے کہا، ’’نو ماہ کے دوران ہماری کارکردگی جے ایس بینک کی مالی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے اور بنیادی کاروبار کو وسعت دینے میں ہونے والی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ منافع اور ڈپازٹس میں اضافہ، کم لاگت والے ڈپازٹس کے بہتر تناسب اور اخراجات پر مؤثر کنٹرول کے ساتھ، حوصلہ افزا ہے۔ ہماری توجہ پائیدار ترقی، صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور پاکستان کی معیشت کے اہم شعبوں کی مالی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہے۔‘‘

